8 جولائی 2012 - 19:30

سعودی انٹلیجنس اور انتظامیہ نے مشرقی سعودیہ کے نامور شیعہ عالم دین "آیت اللہ نمر النمر"کو ایک بار پھراپنی حراست میں لے لیا ۔

ابنا: سعودیہ کے شیعہ مذھبی لیڈراور نامور عالم دین آیت اللہ نمر النمر ،کو شھر قطیف میں ان کے دوست کے گھر سے صبح چار بجے گرفتار کر کے شھر دمام بھیج دیا گیا ۔

سعودیہ وزارت داخلہ نے اگر چہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں بتایا ، مگر معتبر مراکز کا نظریہ یہ ہے کہ سعودیہ کے نئے وزیر داخلہ ، احمد بن عبد العزیز جو ایک مدت تک نائف کے نائب رہے ہیں ارادہ رکھتے ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کے اغاز ہی میں مذھبی اور سیاسی سرگرم افراد کے ساتھ سختی رویہ رکھیں تاکہ اپنے مقام کی حفاظت کرسکیں ۔

اسی سلسلے میں کہا جارہا ہے کہ اس عالم دین کی گرفتاری کے بعد قطیف میں ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور ممکنہ مظاھرے کے پیش نظرسعودیہ کے حساس علاقے میں مخصوص فورس لگا دی گئی ہے ۔

آیت اللہ نمر النمر سعودیہ کے شیعہ عالم دین ، سن 1959 میں سعودیہ کے دیھات عوامیہ میں پیدا ہوئے ، اپ کے والد بزرگوار بحرین اور الاحساء کے نامورعالم دین میں سے شمار کئے جاتے تھے ، اپ اپنی حیات میں متعدد بار گرفتار کئے گئے ۔

آیت اللہ نمر النمر نے اپنی دینی تعلیم ایران کے شھر قم اور تہران میں حاصل کی اور اپ شعلہ بیانی معروف میں ہیں ۔ سعودیہ میں اپ کے خطبے مشھور ہیں ۔

اس شیعہ عالم دین نے اپنا اخری خطبہ نائف بن عبدالعزیز کی موت کے بعد دیا جس میں انہوں نے اس کا مزاق اڑایا تھا اور یہ خطبہ ان کی گرفتاری کا سبب بنا ، محمد بن نائف نے اس گمان میں انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا کہ سعودیہ کے شیعہ اس عالم دین سے اپنی حمایت اٹھا لیں گے ، مگر احمد بن عبد العزیز نے منصب وزارت داخلہ پر بیٹھتے ہی اس شیعہ عالم دین کی گرفتاری کا اقدام کیا ۔

 ........

/169